Our Approach

Nothing is more powerful than an idea whose time has come.

The philosophy behind INDUS is based on two important facts. First, almost all important political changes start with an idea, originating from people who spend a great deal of their lives thinking. And, second, most major public policy reforms in the modern era originated in the academic world.

INDUS is one such idea. It emerged at the NED 2012 Convention in Washington, D.C.: “Gather, consolidate, and blend the powerful support of Pakistan scholars, writers, and journalists with the un-relenting and passionate desire of Pakistanis around the globe and within the country to see a stronger and politically stable Pakistan.”

It is no secret that after sixty-six years of existence Pakistan continues to struggle with some very fundamental issues that form a critical basis for national wellbeing. INDUS was born out of this concern and the necessity to get back to basics. INDUS is conceived as a think tank and research organization.

As a virtual think tank fully exploiting the modern media, INDUS organizes strategy sessions devoted to identifying main policy and governance issues that Pakistan faces today. This is followed by identifying critical issues of a fundamental nature, where INDUS can sponsor debate and research and make a difference.

INDUS is our effort to create awareness and to mobilize Pakistan’s intellectual capital, in Pakistan and overseas, to help evolve leadership that will eventually help attain sustainable political stability and strong pluralistic governing institutions. INDUS focuses on leadership, policies, and institutions to achieve strong, passionate, and selfless political leadership within Pakistan.

INDUS is:

  • A constructive forum for exchange of ideas
  • An informed and independent voice on policy debates
  • An Institution that transforms ideas and emerging problems into policy issues
  • An organization that transforms results of research on issues into policies

 

قوم اور قومیت

قوم اور قومیت ۔ ایک جائزہ ایک ارتقا

اطہر جاوید

 

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر        وہ تھا انتظار جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

چلے چلو کہ وہ منزل ابھئ نہیں آءئ       نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آءئ

                 

فیض احمد فیض

یہ ہیں چند اشعار جو پاکستان کی آزادی کے موقع پر جناب فیض احمد فیض کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں ا۔

فیض صاحب کے جذبات جہاں اپنی جگہ بھرپور فکر اور احساس کا اظہار کرتے ہیں وہاں یہ بات اپنی جگہ ہے کہ صدیوں

کی غلامی کے بعد ہماری قوم اور تہذیب کے منتشر اجزاء ایسے بکھرے ہوئے اوراق تھے جن کی ازسرِ نو تالیف اور

شیرازہ بندی ہماری آزاد قوم کی نئی ذمہ داری تھی ۔

یہ ہماری بد قمستی ہے کہ اس ذمہ داری سے عہدہ براہ ہونے کے لئے جو سوچ بچار تلاش اور محنت درکار تھی اس

پر نہ آزادی کے فوراً بعد کوئی مائل نظر آتا تھا اور نہ ہی آج 62سال کی طویل مدت گزر جانے کے بعد اس میں کوءئ

تبدیلی نظر آتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قومی اعتبار سے حصولِ آزادی کے وقت جو نفرت اور تعصبات جو دورِ

غلامی سے ورژے میں ملے تھے وہ دور یا کم نہیں ہوئے بلکہ بڑھ گئے ۔ کسی ملک یا قوم کے ظہور میں آنے سے

قومی استحکام اور بقا کے سب لواذمات خود بخود وجود میں نہیں آجاتے۔ ساتھ ہی اس بات کا خیال رہے کہ ان

لوازمات کی تخلیق اور پرورش تسکینِ شکن ودہن کی طرح کسی عملی اقدام کے بغیر ممکن نہیں۔

آزادی کا حصول تو ایک جدوجہد تھا ہی۔ آزادی کے بعد قومی تعمیر نو ایک خود مختار وجود کا ارتقاع ایک اور آزمائش

ثابت ہوا ۔ دراصل یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آزادی کے بعد پاکستان کے لئے سب سے بڑا مرحلہ استعمای دور کے پست

سماجی نظام، صوبائی عصبتیوں اور نسلی وابستگیوں کو ایک قومی مفہوم اور یک جہتی میں ڈھالنا تھا۔ لیکن آج 68

سال کی طویل مسافت کے بعد بھی ہم یوں محسوس کرتے ہیں کہ ہم اپنے وجود اور شناخت کی تلاش میں اب

بھی سر گرداں ہیں۔ بقول ایک ہو نہار صحافی کے ہم اب تک یہ نہیں طے کر پائے کہ ہمارا قبلہ کس طرف ہے۔ایسی

صورتِ حال میں یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا واقعی ہمارے یہاں وہ سانچہ ہی وجود میں نہ آسکا جس میں قومیں

ڈھلتی ہیں؟

ان حالات میں یہ عمل ایک قدرتی بات ہے کہ ہم اپنے ملک کو ان تمام ممالک کے بلمقابل دیکھیں جنہوں نے کم و

بیش پچھلی نصف صدی میں آزادی حاصل کی۔ ہندوستان سے لے کر ملائیشیا،انڈونیشیا اور جنوبی کوریا سب ہی

اس دور میں آتے ہیں۔ لیکن سب ہی آزادی کے بعد سے اب تک نہ صرف معاشی استحکام کے حامل ہیں بلکہ بڑ ی

حدتک سیاسی استحکام بھی حاصل کر چکے ہیں۔

پچھلی چھ دہائیوں کے محض ایک سرسری جائزہ سے یہ بات تو واضح ہے کہ پاکستان میں قوم اور قومیت سے

منسلک فکرودانش غیر حاضر نہیں رہی بلکہ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے بے شمار ادیبوں ، دانشوروں

اور صحافیوں نے قوم اور قومیت کے موضوع پر نہایت قیمتی مواد رقم کیا۔ لیکن شاید قوم سے محبت اور قوم کے لئے

یہ والہانہ جذبات ہمارے ملک کے محنت کشوں کے مبارک پسینہ اور خون کی حرارت کا جز نہ بن سکے۔

انفرادی طور پر ہر پاکستانی میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جو کسی قوم کو قوم کہلانے کا مستحق بناتی ہیں۔ لیکن

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اجتماعی طور پر ایک زندہ،کامیاب اور مستحکم قوم اور ملک کا مقام حاصل کرنے سے

قاصر رہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی نمایاں ہے کہ ہماری قوم میں کوئی عنصر کوئی جُز اگر عنقا ہے تو وہ ہے جذبہ بے

لوث خدمت سے ابھرتی ہوئی قیادت۔

بقول علّامہ اقبال ’’ جلوہ طور تو موجود ہے موسٰی ہی نہیں ‘‘

کیا ایسی قیادت کبھی ہماری قوم کو نصیب ہوگی؟ بلکل۔ بشر طیکہ ایسی قیادت کو پیدا کرنے کے لئے صدقِ دل

سے کام کیا جائے

بقول علّامہ اقبال ’’ کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں‘‘

اقتسابات۔ (۱) نسخہ ہائے وفا، فیض احمد فیض (۲) فیض احمد فیض کی غیر قلمبندی تحریریں۔ مرتبہ شمالیہ مجید ،

پاکستان اسٹڈی سنٹر جامعہ کراچی

Subscribe to our Newsletter!

Sign up to receive news and updates about our work and mission!